محمد شریف شاد ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری سکول ججہ اور مڈل سکول درکالہ سے حاصل کی، جہاں اساتذہ پوٹھوہاری زبان میں ہی تعلیم دیتے تھے۔ غربت اور والدِ گرامی کی علالت کے باوجود، انہوں نے اپنی خداداد ذہانت اور محنت سے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
مڈل کے امتحان میں ضلع بھر میں اوّل آنے پر ہیڈ ماسٹر چوہدری ظفر احمد کے تعاون سے ہائی سکول جاتلی سے میٹرک کیا، جس کے لیے انہیں روزانہ دس میل کا پیدل سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ بعد ازاں نارمل سکول شاہ پور صدر سے ایس وی زراعت اور دورانِ ملازمت ایف اے، بی اے اور اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز گورنمنٹ ہائی سکول جہلم سے بطور مدرس کیا۔ جہلم میں قیام کے دوران آپ کا ادبی ذوق پروان چڑھا۔ بعد ازاں آپ نے ابلاغ کے مؤثر ترین ذریعہ “ریڈیو پاکستان راولپنڈی” میں شمولیت اختیار کی۔
یہاں آپ 1950ء سے جاری مشہورِ زمانہ پوٹھوہاری پروگرام “جمہور نی واز” (سابقہ پنڈی دیس) کا حصہ بنے۔ سید اختر جعفری (راجہ صاحب) اور سید اختر امام رضوی جیسے اکابرین کے ساتھ مل کر آپ نے پوٹھوہاری ادب، ثقافت اور دیہی زندگی کی عکاسی کرنے والے سینکڑوں ڈرامے اور فیچر تحریر کیے۔
محمد شریف شاد کا سب سے بڑا کارنامہ پوٹھوہاری زبان کی پہلی جامع لغت (Dictionary) کی ترتیب ہے۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی مادری زبان کا نہ تو کوئی اپنا رسم الخط ہے اور نہ ہی کوئی محفوظ ذخیرہ الفاظ، تو انہوں نے اسے اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔
۱۵ سالہ محنت: انہوں نے مسلسل پندرہ سال تک روزانہ کی بنیاد پر الفاظ جمع کیے۔
تحقیق: الفاظ کے درست تلفظ اور معانی کے لیے پوٹھوہار، آزاد کشمیر اور ہزارہ کے دور دراز دیہاتوں کا سفر کیا اور بزرگوں سے تحقیق کی۔
عزم: سرکاری اداروں کی عدم سرپرستی کے باوجود، انہوں نے اسے “عبادت” سمجھ کر مکمل کیا تاکہ آنے والی نسلیں اپنی ماں بولی سے محروم نہ ہو جائیں۔
محمد شریف شاد نے اپنی زندگی پوٹھوہاری زبان کی ترویج کے لیے وقف کر دی۔ ریڈیو کے پروگرام “راول رویل” اور اپنی تحریروں کے ذریعے انہوں نے پوٹھوہاری نثرو نظم کو ایک نئی زندگی بخشی۔ ان کی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اس خطے کی مٹی کا قرض چکانے میں سرخرو ہوئے۔